Surah

Information

Surah ID #19
Total Verses 98 Ayaat
Rukus 6
Sajdah 1
Actual Order #44
Classification Makkan
Revelation Location & Period Middle Makkah phase (618 - 620 AD). Except 58 and 71, from Madina
Surah 19: Maryam Ayat #35
مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنۡ يَّتَّخِذَ مِنۡ وَّلَدٍ‌ۙ سُبۡحٰنَهٗ‌ؕ اِذَا قَضٰٓى اَمۡرًا فَاِنَّمَا يَقُوۡلُ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُؕ‏ ﴿35﴾
It is not [befitting] for Allah to take a son; exalted is He! When He decrees an affair, He only says to it, "Be," and it is.
اللہ تعالٰی کے لئے اولاد کا ہونا لائق نہیں وہ تو بالکل پاک ذات ہے وہ تو جب کسی کام کے سر انجام دینے کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کہہ دیتا ہے کہ ہو جا وہ اسی وقت ہو جاتا ہے ۔

More translations & tafseer

ما كان لله ان يتخذ من ولد سبحنه اذا قضى امرا فانما يقول له كن فيكون
It is not [befitting] for Allah to take a son; exalted is He! When He decrees an affair, He only says to it, "Be," and it is.
Allah Taalaa kay liye aulad ka hona laeeq nahi woh to bilkul pak zaat hai woh to jab kissi kaam kay sir anjam denay ka irada kerta hai to ussay keh deta hai kay hoja woh ussi waqt ho jata hai.
اللہ کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ کوئی بیٹا بنائے ، اس کی ذات پاک ہے ۔ جب وہ کسی بات کا فیصلہ کرلیتا ہے تو بس اس سے یہ کہتا ہے کہ ہوجا ۔ چنانچہ وہ جاتی ہے ۔
اللہ کو لائق نہیں کہ کسی کو اپنا بچہ ٹھہرائے پاکی ہے اس کو ( ف۵٤ ) جب کسی کام کا حکم فرماتا ہے تو یونہی کہ اس سے فرماتا ہے ہوجاؤ وہ فوراًٰ ہوجاتا ہے ،
اللہ کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے ۔ وہ پاک ذات ہے ۔ وہ جب کسی بات کا فیصلہ کرتا ہے تو کہتا ہے کہ ہو جا ، اور بس وہ ہو جاتی ہے ۔ 22
یہ اللہ کی شان نہیں کہ وہ ( کسی کو اپنا ) بیٹا بنائے ، وہ ( اس سے ) پاک ہے ، جب وہ کسی کام کا فیصلہ فرماتا ہے تو اسے صرف یہی حکم دیتا ہے: ”ہوجا“ بس وہ ہوجاتا ہے
سورة مَرْیَم حاشیہ نمبر :22 یہاں تک جو بات عیسائیوں کے سامنے واضح کی گئی ہے وہ یہ کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق ابن اللہ ہونے کا جو عقیدہ انہوں نے اختیار کر رکھا ہے وہ باطل ہے ۔ جس طرح معجزہ سے حضرت یحیی کی پیدائش نے ان کو خدا کا بیٹا نہیں بنا دیا اسی طرح ایک دوسرے معجزہ حضرت عیسی کی پیدائش بھی کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کی بنا پر انہیں خدا کا بیٹا قرار دے دیا جائے ۔ عیسائیوں کی اپنی روایات میں بھی یہ بات موجود ہے کہ حضرت یحیی اور حضرت عیسی ، دونوں ایک ایک طرح کے معجزہ سے پیدا ہوئے تھے ۔ چنانچہ لوقا کی انجیل میں کہا گیا ہے ۔ لیکن یہ عیسائیوں کا غلو معجزے سے پیدا ہونے والے کو اللہ کا بندہ کہتے ہیں اور دوسرے معجزہ سے پیدا ہونے والے کو اللہ کا بیٹا بنا بیٹھے ہیں ۔