Surah

Information

Surah ID #19
Total Verses 98 Ayaat
Rukus 6
Sajdah 1
Actual Order #44
Classification Makkan
Revelation Location & Period Middle Makkah phase (618 - 620 AD). Except 58 and 71, from Madina
Surah 19: Maryam Ayat #8
قَالَ رَبِّ اَنّٰى يَكُوۡنُ لِىۡ غُلٰمٌ وَّكَانَتِ امۡرَاَتِىۡ عَاقِرًا وَّقَدۡ بَلَـغۡتُ مِنَ الۡـكِبَرِ عِتِيًّا‏ ﴿8﴾
He said, "My Lord, how will I have a boy when my wife has been barren and I have reached extreme old age?"
زکریا ( علیہ السلام ) کہنے لگے میرے رب! میرے ہاں لڑکا کیسے ہوگا ، جب کہ میری بیوی بانجھ اور میں خود بڑھاپے کے انتہائی ضعف کو پہنچ چکا ہوں ۔

More translations & tafseer

قال رب انى يكون لي غلم و كانت امراتي عاقرا و قد بلغت من الكبر عتيا
He said, "My Lord, how will I have a boy when my wife has been barren and I have reached extreme old age?"
Zakriya ( alh-e-salam ) kehney lagay aey meray rab! Meray haan larka kaisay hoga jabkay meri biwi baanjh aur mein khud burhapay kay intehaee zoaf ko phonch chuka hun.
زکریا نے کہا : میرے پروردگار ! میرے یہاں لڑکا کس طرح پیدا ہوگا جبکہ میری بیوی بانجھ ہے ، اور میں بڑھاپے سے اس حال کو پہنچ گیا ہوں کہ میرا جسم سوکھ چکا ہے ۔ ( ٤ )
عرض کی اے میرے رب! میرے لڑکا کہاں سے ہوگا میری عورت تو بانجھ ہے اور میں بڑھاپے سے سوکھ جانے کی حالت کو پہنچ گیا ( ف۹ )
عرض کیا “ پروردگار ، بھلا میرے ہاں کیسے بیٹا ہوگا جبکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بوڑھا ہو کر سوکھ چکاہوں؟ “
۔ ( زکریا علیہ السلام نے ) عرض کیا: اے میرے رب! میرے ہاں لڑکا کیسے ہو سکتا ہے درآنحالیکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں خود بڑھاپے کے باعث ( انتہائی ضعف میں ) سوکھ جانے کی حالت کو پہنچ گیا ہوں
بشارت قبولیت سن کر ۔ حضرت زکریا علیہ السلام اپنی دعا کی قبولیت اور اپنے ہاں لڑکا ہونے کی بشارت سن کر خوشی اور تعجب سے کیفیت دریافت کرنے لگے کہ بظاہر اسباب تو یہ امر مستعد اور ناممکن معلوم ہوتا ہے ۔ دونوں جانب سے حالت ناامیدی کی ہے ۔ بیوی بانجھ جس سے اب تک اولاد نہیں ہوئی میں بوڑھا اور بیحد بوڑھا جس کی ہڈیوں میں اب تو گودا بھی نہیں رہا خشک ٹہنی جیسا ہوگیا ہوں گھر والی بھی بڑھیا پھوس ہو گئی ہے پھر ہمارے ہاں اولاد کیسے ہوگی؟ غرض رب العالمین سے کیفیت بوجہ تعجب وخوشی دریافت کی ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں تمام سنتوں کو جانتا ہوں لیکن مجھے یہ معلوم نہیں ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ظہر عصر میں پڑھتے تھے یا نہیں؟ اور نہ یہ معلوم ہے کہ اس لفظ کو عتیا پڑھتے تھے یا عسیا ( احمد ) فرشتے نے جواب دیا کہ یہ تو وعدہ ہو چکا اسی حالت میں اسی بیوی سے تمہارے ہاں لڑکا ہوگا اللہ کے ذمے یہ کام مشکل نہیں ۔ اس سے زیادہ تعجب والا اور اس سے بڑی قدرت والا کام تو تم خود دیکھ چکے ہو اور وہ خود تمہارا وجود ہے جو کچھ نہ تھا اور اللہ تعالیٰ نے بنا دیا ۔ پس جو تمہاری پیدائش پر قادر تھا وہ تمہارے ہاں اولاد دینے پر بھی قادر ہے ۔ جسے فرمان ہے ( هَلْ اَتٰى عَلَي الْاِنْسَانِ حِيْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْـــًٔا مَّذْكُوْرًا Ǻ۝ ) 76- الإنسان:1 ) یعنی یقینا انسان پر اس کے زمانے کا ایسا وقت بھی گزرا ہے جس میں وہ کوئی قابل ذکر چیز ہی نہ تھا ۔