Surah

Information

Surah ID #28
Total Verses 88 Ayaat
Rukus 9
Sajdah 0
Actual Order #49
Classification Makkan
Revelation Location & Period Middle Makkah phase (618 - 620 AD). Except 52-55 from Madina and 85 from Juhfa at the time of the Hijra
Surah 28: Al-Qasas Ayat #54
اُولٰٓٮِٕكَ يُؤۡتَوۡنَ اَجۡرَهُمۡ مَّرَّتَيۡنِ بِمَا صَبَرُوۡا وَيَدۡرَءُوۡنَ بِالۡحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ‏ ﴿54﴾
Those will be given their reward twice for what they patiently endured and [because] they avert evil through good, and from what We have provided them they spend.
یہ وہ لوگ ہیں جنہیں انکے صبر کے بدلے میں دوہرا اجر دیا جائے گا یہ نیکی سے بدی کو ٹال دیتے ہیں اور ہم نے جو انہیں دے رکھا ہے اس میں سے دیتے رہتے ہیں ۔

More translations & tafseer

اولىك يؤتون اجرهم مرتين بما صبروا و يدرءون بالحسنة السية و مما رزقنهم ينفقون
Those will be given their reward twice for what they patiently endured and [because] they avert evil through good, and from what We have provided them they spend.
Yeh apnay kiye huyey sabar kay badley dohra dohra ajar diye jayen gay. Yeh neki say badi ko taal detay hain aur hum ney enhen jo dey rakha hai iss mein say detay rehtay hain.
ایسے لوگوں کو ان کا ثواب دہرا دیا جائے گا ، کیونکہ انہوں نے صبر سے کام لیا ( ٣٠ ) اور وہ نیکی سے برائی کا دفعیہ کرتے ہیں ، ( ٣١ ) اور ہم نے جو کچھ ان کو دیا ہے ، اس میں سے ( اللہ کے راستے میں ) خرچ کرتے ہیں ۔
ان کو ان کا اجر دوبالا دیا جائے گا ( ف۱۳۵ ) بدلہ ان کے صبر کا ( ف۱۳٦ ) اور وہ بھلائی سے برائی کو ٹالتے ہیں ( ف۱۳۷ ) اور ہمارے دیے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں ( ف۱۳۸ )
یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کا اجر دو بار دیا جائے گا 74 اس ثابت قدمی کے بدلے جو انہوں نے سکھائی ۔ 75 وہ برائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں 76 اور جو کچھ رزق ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ 77
یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کا اجر دوبار دیا جائے گا اس وجہ سے کہ انہوں نے صبر کیا اور وہ برائی کو بھلائی کے ذریعے دفع کرتے ہیں اور اس عطا میں سے جو ہم نے انہیں بخشی خرچ کرتے ہیں
سورة القصص حاشیہ نمبر : 74 یعنی ایک اجر اس ایمان کا جو وہ پہلے سیدنا عیسی علیہ السلام پر رکھتے تھے اور دوسرا اجر اس ایمان کا جو وہ اب نبی عربی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر لائے ۔ یہی بات اس حدیث میں بیان کی گئی ہے جو بخاری و مسلم نے حضرت ابو موسی اشعری سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ثلثۃ لہم اجران ، رجل من اھل الکتب امن بنبیہ وامن بمحمد ۔ تین شخص ہیں جن کو دوہرا اجر ملے گا ، ان میں سے ایک وہ ہے جو اہل کتاب میں سے تھا اور اپنے نبی پر ایمان رکھتا تھا ، پھر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر ایمان لایا ۔ سورة القصص حاشیہ نمبر : 75 یعنی انہیں یہ دوہرا اجر اس بات کا ملے گا کہ وہ قومی و نسلی اور وطنی و گروہی تعصبات سے بچ کر اصل دین حق پر ثابت قدم رہے اور نئے نبی کی آدم پر جو سخت امتحان درپیش ہوا اس میں انہوں نے ثابت کردیا کہ دراصل وہ مسیح پرست نہیں بلکہ خدا پرست تھے ، اور شخصیت مسیح کے گرویدہ نہیں بلکہ اسلام کے متبع تھے ، اسی وجہ سے مسیح کے بعد جب دوسرا نبی وہی اسلام لیکر آیا جسے مسیح لائے تھے تو انہوں نے بے تکلف اس کی رہنمائی میں اسلام کا راستہ اختیار کرلیا اور ان لوگوں کا راستہ چھوڑ دیا جو مسیحیت پر جمے رہ گئے ۔ سورة القصص حاشیہ نمبر : 76 یعنی وہ بدی کا جواب بدی سے نہیں بلکہ نیکی سے دیتے ہیں ، جھوٹ کے مقابلے میں جھوٹ نہیں بلکہ صداقت لاتے ہیں ، ظلم کو ظلم سے نہیں بلکہ انصاف سے دفع کرتے ہیں ، شرارتوں کا سامنا شرارت سے نہیں بلکہ شرافت سے کرتے ہیں ۔ سورة القصص حاشیہ نمبر : 77 یعنی وہ راہ حق میں مالی ایثار بھی کرتے ہیں ۔ ممکن ہے کہ اس میں اشارہ اس طرف بھی ہو کہ وہ لوگ محض حق کی تلاش میں حبش سے سفر کر کے مکے آئے تھے ۔ اس محنت اور صرف مال سے کوئی مادی منفعت ان کے پیش نظر نہ تھی ۔ انہوں نے جب سنا کہ مکہ میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تو انہوں نے ضروری سمجھا کہ خود جاکر تحقیق کریں تاکہ اگر واقعی ایک نبی ہی خدا کی طرف سے مبعوث ہوا ہو تو وہ اس پر ایمان لانے اور ہدایت پانے سے محروم نہ رہ جائیں ۔