Surah

Information

Surah ID #28
Total Verses 88 Ayaat
Rukus 9
Sajdah 0
Actual Order #49
Classification Makkan
Revelation Location & Period Middle Makkah phase (618 - 620 AD). Except 52-55 from Madina and 85 from Juhfa at the time of the Hijra
Surah 28: Al-Qasas Ayat #19
فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ بِالَّذِىۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا ۙ قَالَ يٰمُوۡسٰٓى اَ تُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِىۡ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ ‌ۖ  اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًا فِى الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ‏ ﴿19﴾
And when he wanted to strike the one who was an enemy to both of them, he said, "O Moses, do you intend to kill me as you killed someone yesterday? You only want to be a tyrant in the land and do not want to be of the amenders."
پھر جب اپنے اور اس کے دشمن کو پکڑنا چاہا وہ فریادی کہنے لگا کہ موسیٰ ( علیہ السلام ) کیا جس طرح تو نے کل ایک شخص کو قتل کیا ہے مجھے بھی مار ڈالنا چاہتا ہے ، تو تو ملک میں ظالم و سرکش ہونا ہی چاہتا ہے اور تیرا یہ ارادہ ہی نہیں کہ ملاپ کرنے والوں میں سے ہو ۔

More translations & tafseer

فلما ان اراد ان يبطش بالذي هو عدو لهما قال يموسى اتريد ان تقتلني كما قتلت نفسا بالامس ان تريد الا ان تكون جبارا في الارض و ما تريد ان تكون من المصلحين
And when he wanted to strike the one who was an enemy to both of them, he said, "O Moses, do you intend to kill me as you killed someone yesterday? You only want to be a tyrant in the land and do not want to be of the amenders."
Phir jab uss kay aur apnay dushman ko pakarna chaha woh faryadi kehnay laga kay musa ( alh-e-salam ) kiya jissa tarah tu ney kal aik shaks ko qatal kiya hai mujhay bhi maar dalna chahata hai tu to mulk mein zalim-o-sirkash hona hi chahata hai aur tera yeh irada hi nahi kay milap kerney walon mein say ho.
پھر جب انہوں نے اس شخص کو پکڑنے کا ارادہ کیا جو ان دونوں کا دشمن تھا تو اس ( اسرائیلی ) نے کہا : موسیٰ کیا تم مجھے بھی اسی طرح قتل کرنا چاہتے ہو جیسے تم نے کل ایک آدمی کو قتل کردیا تھا؟ ( ١٠ ) تمہارا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ تم زمین میں اپنی زبردستی جماؤ ، اور تم مصلح بننا نہیں چاہتے ۔
تو جب موسیٰ نے چاہا کہ اس پر گرفت کرے جو ان دونوں کا دشمن ہے ( ف٤٦ ) وہ بولا اے موسیٰ کیا تم مجھے ویسا ہی قتل کرنا چاہتے ہو جیسا تم نے کل ایک شخص کو قتل کردیا ، تم تو یہی چاہتے ہو کہ زمین میں سخت گیر بنو اور اصلاح کرنا نہیں چاہتے ( ف٤۷ )
پھر جب موسی ( علیہ السلام ) نے ارادہ کیا کہ دشمن قوم کے آدمی پر حملہ کرے 28 تو وہ پکار اٹھا ” 29 اے موسی ( علیہ السلام ) ، کیا آج تو مجھے اسی طرح قتل کرنے لگا ہے جس طرح کل ایک شخص کو قتل کر چکا ہے ، تو اس ملک میں جبار بن کر رہنا چاہتا ہے ، اصلاح کرنا نہیں چاہتا ۔ ”
سو جب انہوں نے ارادہ کیا کہ اس شخص کو پکڑیں جو ان دونوں کا دشمن ہے تو وہ بول اٹھا: اے موسٰی! کیا تم مجھے ( بھی ) قتل کرنا چاہتے ہو جیسا کہ تم نے کل ایک شخص کو قتل کر ڈالا تھا ۔ تم صرف یہی چاہتے ہو کہ ملک میں بڑے جابر بن جاؤ اور تم یہ نہیں چاہتے کہ اصلاح کرنے والوں میں سے بنو
سورة القصص حاشیہ نمبر : 28 بائیبل کا بیان یہاں قرآن کے بیان سے مختلف ہے ۔ بائیبل کہتی ہے کہ دوسرے دن کا جھگڑا دو اسرائیلیوں کے درمیان تھا ۔ لیکن قرآن کہتا ہے کہ یہ جھگڑا بھی اسرائیلی اور مصری کے درمیان ہی تھا ، قرین قیاس بھی یہی دوسرا بیان معلوم ہوتا ہے ، کیونکہ پہلے دن کے قتل کا راز فاش ہونے کی جو صورت آگے بیان ہو رہی ہے وہ اسی طرح رونما ہوسکتی تھی کہ مصری قوم کے ایک شخص کو اس واقعہ کی خبر ہوجاتی ۔ ایک اسرائیلی کے علم میں اس کے آجانے سے یہ امکان کم تھا کہ اپنی کے پشیبان شہزادے کے اتنے بڑے قصور کی اطلاع پاتے ہی وہ جاکر فرعونی حکومت میں اس کی مخبری کردیتا ۔ سورة القصص حاشیہ نمبر : 29 یہ پکارنے والا وہی اسرائیلی تھا جس کی مدد کے لیے حضرت موسی آگے بڑھے تھے ۔ اس کو ڈانٹنے کے بعد جب آپ مصری کو مارنے کے لیے چلے تو اس اسرائیلی نے سمجھا کہ یہ مجھے مارنے آرہے ہیں ، اس لیے اس نے چیخنا شروع کردیا اور اپنی حماقت سے کل کے قتل کا راز فاش کر ڈالا ۔