Surah

Information

Surah ID #27
Total Verses 93 Ayaat
Rukus 7
Sajdah 1
Actual Order #48
Classification Makkan
Revelation Location & Period Middle Makkah phase (618 - 620 AD)
Surah 27: An-Naml Ayat #86
اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّا جَعَلۡنَا الَّيۡلَ لِيَسۡكُنُوۡا فِيۡهِ وَالنَّهَارَ مُبۡصِرًا ‌ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيٰتٍ لِّـقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿86﴾
Do they not see that We made the night that they may rest therein and the day giving sight? Indeed in that are signs for a people who believe.
کیا وہ دیکھ نہیں رہے ہیں کہ ہم نے رات کو اس لئے بنایا ہے کہ وہ اس میں آرام حاصل کرلیں اور دن کو ہم نے دکھلانے والا بنایا ہے یقیناً اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو ایمان و یقین رکھتے ہیں ۔

More translations & tafseer

الم يروا انا جعلنا اليل ليسكنوا فيه و النهار مبصرا ان في ذلك لايت لقوم يؤمنون
Do they not see that We made the night that they may rest therein and the day giving sight? Indeed in that are signs for a people who believe.
Kiya woh dekh nahi rahey hain kay hum ney raat ko iss liye banaya hai kay woh iss mein aaram hasil kerlen aur din ko hum ney dikhlaney wala banaya hai yaqeenan iss mein unn logon kay liye nishaniyan hain jo emaan-o-yaqeen rakhtay hain.
کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ہم نے رات اس لیے بنائی ہے کہ وہ اس میں سکون حاصل کریں ، اور دن اس طرح بنایا ہے کہ اس میں چیزیں دکھائی دیں؟ یقینا اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو ایمان لاتے ہیں ۔
کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ ہم نے رات بنائی کہ اس میں آرام کریں اور دن کو بنایا سوجھانے والا ، بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے کہ ایمان رکھتے ہیں ( ف۱٤۷ )
کیا ان کو سجھائی نہ دیتا تھا کہ ہم نے رات ان کے لیے سکون حاصل کرنے کو بنائی تھی اور دن کو روشن کیا تھا ؟ 104 اسی میں بہت نشانیاں تھیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے تھے ۔ 105
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے رات بنائی تاکہ وہ اس میں آرام کرسکیں اور دن کو ( امورِ حیات کی نگرانی کے لئے ) روشن ( یعنی اشیاء کو دِکھانے اور سُجھانے والا ) بنایا ، بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو ایمان رکھتے ہیں
سورة النمل حاشیہ نمبر : 104 یعنی بے شمار نشانیوں میں سے یہ دو نشانیاں تو ایسی تھیں جن کا وہ سب ہر وقت مشاہدہ کرر ہے تھے ، جن کے فوائد سے ہر آن متمتع ہو رہے تھے ، جو کسی اندھے بہرے اور گونگے تک سے چھپی ہوئی نہ تھیں ، کیوں نہ رات کے آرام اور دن کے مواقع سے فائدہ اٹھائے وقت انہوں نے کبھی سوچا کہ یہ ایک حکیم کا بنایا ہوا نظام ہے جس نے ٹھیک ٹھیک ان کی ضروریات کے مطابق زمین اور سورج کا تعلق قائم کیا ہے ، یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہوسکتا ، کیونکہ اس میں مقصدیت حکمت اور منصوبہ بندی علانیہ نظر آرہی ہے جو اندھے توائے فطرت کی صفت نہیں ہوسکتی ، اور یہ بہت سے خداؤں کی کافرفرمائی بھی بھی نہیں ہے ، کیونکہ یہ نظام لا محالہ کسی ایک ہی ایسے خالق و مالک اور مدبر کا قائم کیا ہوا ہوسکتا ہے جو زمین ، چاند ، سورج اور تمام دوسرے سیاروں پر فرمانروائی کر رہا ہو ۔ صرف اسی ایک چیز کو دیکھ کر وہ جان سکتے تھے کہ ہم نے اپنے رسول اور اپنی کتاب کے ذریعہ سے جو حقیقت بتائی ہے یہ رات اور دن کی گردش اس کی تصدیق کر رہی ہے ۔ سورة النمل حاشیہ نمبر : 105 یعنی یہ کوئی نہ سمجھ میں آسکنے والی بات بھی نہیں تھی ، آخر انہی کے بھائی بند ، انہی کے قبیلے اور برادری کے لوگ ، انہی جیسے انسان موجود تھے جو یہی نشانیاں دیکھ کر مان گئے تھے کہ نبی جس پر خداپرستی اور توحید کی طرف بلا رہا ہے وہ بالکل مطابق حقیقت ہے ۔