Surah

Information

Surah ID #20
Total Verses 135 Ayaat
Rukus 8
Sajdah 0
Actual Order #45
Classification Makkan
Revelation Location & Period Middle Makkah phase (618 - 620 AD). Except 130 and 131, from Madina
Surah 20: Ta-Ha Ayat #99
كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَيۡكَ مِنۡ اَنْۢبَآءِ مَا قَدۡ سَبَقَ‌ ۚ وَقَدۡ اٰتَيۡنٰكَ مِنۡ لَّدُنَّا ذِكۡرًا ‌ ۖ‌ ۚ‏ ﴿99﴾
Thus, [O Muhammad], We relate to you from the news of what has preceded. And We have certainly given you from Us the Qur'an.
اسی طرح ہم تیرے سامنے پہلے کی گزری ہوئی وارداتیں بیان فرما رہے ہیں اور یقیناً ہم تجھے اپنے پاس سے نصیحت عطا فرما چکے ہیں ۔

More translations & tafseer

كذلك نقص عليك من انباء ما قد سبق و قد اتينك من لدنا ذكرا
Thus, [O Muhammad], We relate to you from the news of what has preceded. And We have certainly given you from Us the Qur'an.
Issi tarah hum teray samney pehlay ki guzri hui waardaaten biyan farma rahen hain aur yaqeena hum tujhay apney pass say naseehat ata farma chukay hain.
۔ ( اے پیغمبر ) ماضی میں جو حالات گذرے ہیں ان میں سے کچھ واقعات ہم اسی طرح تم کو سناتے ہیں ، اور ہم نے تمہیں خاص اپنے پاس سے ایک نصیحت نامہ عطا کیا ہے ۔ ( ٤٣ )
ہم ایسا ہی تمہارے سامنے اگلی خبریں بیان فرماتے ہیں اور ہم نے تم کو اپنے پاس سے ایک ذکر عطا فرمایا ( ف۱۵۰ )
اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ، 75 اس طرح ہم پچھلے گزرے ہوئے حالات کی خبریں تم کو سناتے ہیں ، اور ہم نے خاص اپنے ہاں سے تم کو ایک ” ذکر ” ﴿درس نصیحت﴾ عطا کیا ہے ۔ 76
اس طرح ہم آپ کو ( اے حبیبِ معظّم! ) ان ( قوموں ) کی خبریں سناتے ہیں جو گزر چکی ہیں اور بیشک ہم نے آپ کو اپنی خاص جناب سے ذکر ( یعنی نصیحت نامہ ) عطا فرمایا ہے
سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :75 موسیٰ علیہ السلام کا قصہ ختم کر کے اب پھر تقریر کا رخ اس مضمون کی طرف مڑتا ہے جس سے سورہ کا آغاز ہوا تھا ۔ آگے بڑھنے سے پہلے ایک مرتبہ پلٹ کر سورہ کی ان ابتدائی آیات کو پڑھ لیجیے جن کے بعد یکایک حضرت موسیٰ کا قصہ شروع ہو گیا تھا ۔ اس سے آپ کی سمجھ میں اچھی طرح یہ بات آ جائے گی کہ سورہ کا اصل موضوع بحث کیا ہے ، بیچ میں قصہ موسیٰ کس لیے بیان ہوا ہے ۔ اور اب قصہ ختم کر کے کس طرح تقریر اپنے موضوع کی طرف پلٹ رہی ہے ۔ سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :76 یعنی یہ قرآن ، جس کے متعلق آغاز سورہ میں کہا گیا تھا کہ یہ کوئی ان ہونا کام تم سے لینے اور تم کو بیٹھے بٹھائے ایک مشقت میں مبتلا کر دینے کے لیے نازل نہیں کیا گیا ہے ، یہ تو ایک یاد دہانی اور نصیحت ( تذکرہ ) ہے ہر اس شخص کے لیے جس کے دل میں خدا کا کچھ خوف ہو ۔
سب سے اعلی کتاب فرمان ہے کے جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قصہ اصلی رنگ میں آپ کے سامنے بیان ہوا ایسے ہی اور بھی حالات گزشتہ آپ کے سامنے ہم ہو بہو بیان فرما رہے ہیں ۔ ہم نے تو آپ کو قرآن عظیم دے رکھا ہے جس کے پاس باطل پھٹک نہیں سکتا کیونکہ آپ حکمت وحمد والے ہیں کسی نبی کو کوئی کتاب اس سے زیادہ کمال والی اور اس سے زیادہ جامع اور اس سے بابرکت نہیں ملی ۔ ہر طرح سب سے اعلیٰ کتاب یہی کلام اللہ شریف ہے جس میں گذشتہ کی خبریں آئندہ کے امور اور ہر کام کے طریقے مذکور ہیں ۔ اسے نہ ماننے والا ، اس سے منہ پھیرنے والا ، اس کے احکام سے بھاگنے والا ، اس کے سوا کسی اور میں ہدایت کو تلاش کرنے والا گمراہ ہے اور جہنم کی طرف جانے والا ہے ۔ قیامت کو وہ اپنا بوجھ آپ اٹھائے گا اور اس میں دب جائے گا اس کے ساتھ جو بھی کفر کرے وہ جہنمی ہے کتابی ہو یا غیر کتابی عجمی ہو یا عربی اس کا منکر جہنمی ہے ۔ جیسے فرمان ہے کہ میں تمہیں بھی ہوشیار کرنے والا ہوں اور جسے بھی یہ پہنچے پس اس کا متبع ہدایت والا اور اس کا مخالف ضلالت وشقاوت والا جو یہاں برباد ہوا وہ وہاں دوزخی بنا ۔ اس عذاب سے اسے نہ تو کبھی چٹھکارا حاصل ہو نہ بچ سکے برا بوجھ ہے جو اس پر اس دن ہو گا ۔