Surah

Information

Surah ID #20
Total Verses 135 Ayaat
Rukus 8
Sajdah 0
Actual Order #45
Classification Makkan
Revelation Location & Period Middle Makkah phase (618 - 620 AD). Except 130 and 131, from Madina
Surah 20: Ta-Ha Ayat #69
وَاَ لۡقِ مَا فِىۡ يَمِيۡنِكَ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوۡا‌ ؕاِنَّمَا صَنَعُوۡا كَيۡدُ سٰحِرٍ‌ ؕ وَلَا يُفۡلِحُ السّٰحِرُ حَيۡثُ اَتٰى‏ ﴿69﴾
And throw what is in your right hand; it will swallow up what they have crafted. What they have crafted is but the trick of a magician, and the magician will not succeed wherever he is."
اور تیرے دائیں ہاتھ میں جو ہے اسے ڈال دے کہ ان کی تمام کاریگری کو وہ نگل جائے ، انہوں نے جو کچھ بنایا ہے یہ صرف جادوگروں کے کرتب ہیں اور جادوگر کہیں سے بھی آئے کامیاب نہیں ہوتا ۔

More translations & tafseer

و الق ما في يمينك تلقف ما صنعوا انما صنعوا كيد سحر و لا يفلح الساحر حيث اتى
And throw what is in your right hand; it will swallow up what they have crafted. What they have crafted is but the trick of a magician, and the magician will not succeed wherever he is."
Aur teray dayen hath mein jo hai ussay daal dey kay unn ki tamam karigari ko woh nigal jaye enhon ney jo kuch banaya hai yeh sirf jadoogaron kay kartab hain aur jadoogar kahin say bhi aaye kaamyab nahi hota.
اور جو ( لاٹھی ) تمہارے دائیں ہاتھ میں ہے ، اسے ( زمین پر ) ڈال دو ، ان لوگوں نے جو کاریگری کی ہے ، وہ اس سب کو نگل جائے گی ، ان کی ساری کاریگری ایک جادوگر کے کرتب کے سوا کچھ نہیں ، اور جادوگر چاہے کہیں چلا جائے ، اسے فلاح نصیب نہیں ہوتی ۔
اور ڈال تو دے جو تیرے داہنے ہاتھ میں ہے ( ف۸۸ ) اور ان کی بناوٹوں کو نگل جائے گا ، وہ جو بناکر لائے ہیں وہ تو جادوگر کا فریب ہے ، اور جادوگر کا بھلا نہیں ہوتا کہیں آوے ( ف۸۹ )
پھینک جو کچھ تیرے ہاتھ میں ہے ، ابھی ان کی ساری بناوٹی چیزوں کو نگلے جاتا ہے ۔ 42 یہ جو کچھ بنا کر لائے ہیں یہ تو جادو گر کا فریب ہے ، اور جادوگر کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا ، خواہ کسی شان سے وہ آئے ۔ ”
اور تم ( اس لاٹھی کو ) جو تمہارے داہنے ہاتھ میں ہے ( زمین پر ) ڈال دو وہ اس ( فریب ) کو نگل جائے گی جو انہوں نے ( مصنوعی طور پر ) بنا رکھا ہے ۔ جو کچھ انہوں نے بنا رکھا ہے ( وہ تو ) فقط جادوگر کا فریب ہے ، اور جادوگر جہاں کہیں بھی آئے گا فلاح نہیں پائے گا
سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :42 ہو سکتا ہے کہ معجزے سے جو اژدھا پیدا ہوا تھا وہ ان تمام لاٹھیوں اور رسیوں ہی کو نگل گیا ہو جو سانپ بنی نظر آ رہی تھیں ۔ لیکن جن الفاظ میں یہاں اور دوسرے مقامات پر قرآن میں اس واقعے کو بیان کیا گیا ہے ان سے بظاہر گمان یہی ہوتا ہے کہ اس نے لاٹیوں اور رسیوں کو نہیں نگلا بلکہ اس جادو کے اثر کو باطل کر دیا جس کی بدولت وہ سانپ بنی نظر آ رہی تھیں ۔ سورہ اعراف اور شعراء میں الفاظ یہ ہیں کہ تَلْقَفْ مَا یَاْفِکُوْنَ ، جو جھوٹ وہ بنا رہے تھے اس کو وہ نگلے جا رہا تھا ۔ اور یہاں الفاظ یہ ہیں کہ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا ، وہ نگل جائے گا اس چیز کو جو انہوں نے بنا رکھی ہے اب یہ ظاہر ہے کہ ان کا جھوٹ اور ان کی بناوٹ لاٹھیاں اور رسیاں نہ تھیں بلکہ وہ جادو تھا جس کی بدولت وہ سانپ بنی نظر آ رہی تھیں ۔ اس لیے ہمارا خیال یہ ہے کہ جدھر جدھر وہ گیا لاٹھیوں اور رسیوں کو نگل کر اس طرح پیچھے پھینکتا چلا گیا کہ ہر لاٹھی ، لاٹھی اور ہر رسی ، رسی بن کر پڑی رہ گئی ۔