Surah

Information

Surah ID #20
Total Verses 135 Ayaat
Rukus 8
Sajdah 0
Actual Order #45
Classification Makkan
Revelation Location & Period Middle Makkah phase (618 - 620 AD). Except 130 and 131, from Madina
Surah 20: Ta-Ha Ayat #65
قَالُوۡا يٰمُوۡسٰٓى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِىَ وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّكُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَلۡقٰى‏ ﴿65﴾
They said, "O Moses, either you throw or we will be the first to throw."
کہنے لگے اے موسٰی! یا تو تُو پہلے ڈال یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں ۔

More translations & tafseer

قالوا يموسى اما ان تلقي و اما ان نكون اول من القى
They said, "O Moses, either you throw or we will be the first to throw."
Kehney lagay aey musa! Ya to tu pehlay daal ya hum pehlay dalney walay bann jayen.
جادوگر بولے : موسیٰ ! یا تو تم ( اپنی لاٹھی پہلے ) ڈال دو ، یا پھر ہم ڈالنے میں پہل کریں ؟
بولے ( ف۸۳ ) اے موسیٰ یا تو تم ڈالو ( ف۸٤ ) یا ہم پہلے ڈالیں ( ف۸۵ )
جادو گر 39 بولے ” موسی ( علیہ السلام ) ، تم پھینکتے ہو یا پہلے ہم پھینکیں؟ ”
۔ ( جادوگر ) بولے: اے موسٰی! یا تو تم ( اپنی چیز ) ڈالو اور یا ہم ہی پہلے ڈالنے والے ہوجائیں
سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :39 بیچ کی یہ تفصیل چھوڑ دی گئی کہ اس پر فرعون کی صفوں میں اعتماد بحال ہو گیا اور مقابلہ شروع کرنے کا فیصلہ کر کے جادوگروں کو احکام دے دیے گئے کہ میدان میں اتر آئیں ۔
مقابلہ شروع ہوا ۔ جادوگروں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ اب بتاؤ تم اپنا وار پہلے کرتے ہو یا ہم پہل کریں؟ اس کے جواب میں اللہ کے پیغمبر نے فرمایا تم ہی پہلے اپنے دل کی بھڑاس نکال لو تاکہ دنیا دیکھ لے کہ تم نے کیا کیا اور پھر اللہ نے تمہارے کئے کو کس طرح مٹا دیا ؟ اسی وقت انہوں نے اپنی لکڑیاں اور رسیاں میدان میں ڈال دیں کچھ ایسا معلوم ہونے لگا کہ گویا وہ سانپ بن کر چل پھر رہی ہیں اور میدان میں دوڑ بھاگ رہی ہیں ۔ کہنے لگے فرعون کے اقبال سے غالب ہم ہی رہیں گے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر کے انہیں خوفزدہ کر دیا اور جادو کے زبردست کرتب دکھا دیئے ۔ یہ لوگ بہت زیادہ تھے ۔ ان کی پھینکی ہوئی رسیوں اور لاٹھیوں سے اب سارے کا سارا میدان سانپوں سے پر ہو گیا وہ آپس میں گڈ مڈ ہو کر اوپر تلے ہونے لگے ۔ اس منظر نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو خوفزدہ کر دیا کہ کہیں ایسا نہ ہو لوگ ان کے کرتب کے قائل ہو جائیں اور اس باطل میں پھنس جائیں ۔ اسی وقت جناب باری نے وحی نازل فرمائی کہ اپنے داہنے ہاتھ کی لکڑی کو میدان میں ڈال دو ہراساں نہ ہو ۔ آپ نے حکم کی تعمیل کی ۔ اللہ کے حکم سے یہ لکڑی ایک زبردست بےمثال اژدھا بن گئی ، جس کے پیر بھی تھے اور سر بھی تھا ۔ کچلیاں اور دانت بھی تھے ۔ اس نے سب کے دیکھتے سارے میدان کو صاف کر دیا ۔ اس نے جادوگروں کے جتنے کرتب تھے سب کو ہڑپ کر لیا ۔ اب سب پر حق واضح ہو گیا ، معجزے اور جادو میں تمیز ہو گئی ۔ حق و باطل میں پہچان ہو گئی ۔ سب نے جان لیا کہ جادوگروں کی بناوٹ میں اصلیت کچھ بھی نہ تھی ۔ فی الواقع جادوگر کوئی چال چلیں لیکن اس میں غالب نہیں آ سکتے ۔ ابن ابی حاتم میں حدیث ہے ترمذی میں بھی موقوفاً اور مرفوعاً مروی ہے کہ جادوگر کو جہاں پکڑو مار ڈالو ، پھر آپنے یہی جملہ تلاوت فرمایا ۔ یعنی جہاں پایا جائے امن نہ دیا جائے ۔ جادوگروں نے جب یہ دیکھا انہیں یقین ہو گیا کہ یہ کام انسانی طاقت سے خارج ہے وہ جادو کے فن میں ماہر تھے بہ یک نگاہ پہچان گئے کہ واقعی یہ اس اللہ کا کام ہے جسکے فرمان اٹل ہیں جو کچھ وہ چاہے اس کے حکم سے ہو جاتا ہے ۔ اس کے ارادے سے مراد جدا نہیں ۔ اس کا اتنا کامل یقین انہیں ہو گیا کہ اسی وقت اسی میدان میں سب کے سامنے بادشاہ کی موجودگی میں وہ اللہ کے سامنے سربہ سجود ہو گئے اور پکار اٹھے کہ ہم رب العالمین پر یعنی ہارون اور موسیٰ علیہما السلام کے پروردگار پر ایمان لائے ۔ سبحان اللہ صبح کے وقت کافر اور جادوگر تھے اور شام کو پاکباز مومن اور اللہ کی راہ کے شہید تھے ۔ کہتے ہیں کہ ان کی تعداد اسی ہزار تھی یا ستر ہزار یا کچھ اوپر تیس ہزار یا انیس ہزار یا پندرہ ہزار یا بارہ ہزار ۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ ستر تھے ۔ صبح جادوگر شام کو شہید ۔ مروی ہے کہ جب یہ سجدے میں گرے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں جنت دکھا دی اور انہوں نے اپنی منزلیں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں ۔