Surah

Information

Surah ID #19
Total Verses 98 Ayaat
Rukus 6
Sajdah 1
Actual Order #44
Classification Makkan
Revelation Location & Period Middle Makkah phase (618 - 620 AD). Except 58 and 71, from Madina
Surah 19: Maryam Ayat #29
فَاَشَارَتۡ اِلَيۡهِ‌ ؕ قَالُوۡا كَيۡفَ نُـكَلِّمُ مَنۡ كَانَ فِى الۡمَهۡدِ صَبِيًّا‏ ﴿29﴾
So she pointed to him. They said, "How can we speak to one who is in the cradle a child?"
مریم نے اپنے بچے کی طرف اشارہ کیا ۔ سب کہنے لگے کہ لو بھلا ہم گود کے بچے سے باتیں کیسے کریں؟

More translations & tafseer

فاشارت اليه قالوا كيف نكلم من كان في المهد صبيا
So she pointed to him. They said, "How can we speak to one who is in the cradle a child?"
Marium ney apney bachay ki taraf ishara kiya. Sab kehnay lagay kay lo bhala hum goad kay bachay say baat kaisay keren?
اس پر مریم نے اس بچے کی طرف اشارہ کیا ۔ لوگوں نے کہا : بھلا ہم اس سے کیسے بات کریں جو ابھی پالنے میں پڑا ہوا بچہ ہے؟
اس پر مریم نے بچے کی طرف اشارہ کیا ( ف٤۵ ) وہ بولے ہم کیسے بات کریں اس سے جو پالنے میں بچہ ہے ( ف٤٦ )
مریم نے بچے کی طرف اشارہ کر دیا ۔ لوگوں نے کہا “ ہم اس سے کیا بات کریں گے جو گہوارے میں پڑا ہوا ایک بچہ ہے؟ “ 20
تو مریم نے اس ( بچے ) کی طرف اشارہ کیا ، وہ کہنے لگے: ہم اس سے کس طرح بات کریں جو ( ابھی ) گہوارہ میں بچہ ہے
سورة مَرْیَم حاشیہ نمبر :20 قرآن کی معنوی تحریف کرنے والوں نے اس آیت کا یہ مطلب لیا ہے کہ ہم اس سے کیا بات کریں جو کل کا بچہ ہے یعنی ان کے نزدیک یہ گفتگو حضرت عیسی کی جوانی کے زمانے میں ہوئی اور بنی اسرائیل کے بڑے بوڑھوں نے کہا کہ بھلا اس لڑکے سے کیا بات کریں جو کل ہمارے سامنے گہوارے میں پڑا تھا ۔ مگر جو شخص موقع و محل اور سیاق و سباق پر کچھ بھی غور کرے گا وہ محسوس کرے گا یہ محض ایک مہمل تاویل ہے جو معجزے سے بچنے کے لیے کی گئی ہے ۔ اور کچھ نہیں تو ظالموں نے یہی سوچا ہوتا کہ جس بات پر اعتراض کرنے کے لیئے وہ لوگ آئے تھے وہ تو بچے کی پیدائش کے وقت پیش آئی تھی نہ کہ اس کے جوان ہونے کے وقت ۔ علاوہ بریں سورہ آل عمران کی آیت 46 ، اور سورہ مائدہ کی آیت ، 110 دونوں اس بات کی قطعی صراحت کرتی ہیں کہ حضرت عیسی نے یہ کلام جوانی میں نہیں بلکہ گہوارے میں ایک نو زائیدہ بچے کی حیثیت ہی سے کیا تھا ۔ پہلی آیت میں فرشتہ حضرت مریم کو بیٹے کی بشارت دیتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ لوگوں سے گہوارہ میں بھی بات کرے گا اور جوان ہو کر بھی ۔ دوسری آیت میں اللہ تعالی خود حضرت عیسی سے فرماتا ہے کہ تو لوگوں سے گہوارہ میں بھی بات کرتا تھا اور جوانی میں بھی ۔