Surah

Information

Surah ID #18
Total Verses 110 Ayaat
Rukus 12
Sajdah 0
Actual Order #69
Classification Makkan
Revelation Location & Period Late Makkah phase (620 - 622 AD). Except 28, 83-101, from Madina
Surah 18: Al-Kahf Ayat #54
وَلَقَدۡ صَرَّفۡنَا فِىۡ هٰذَا الۡقُرۡاٰنِ لِلنَّاسِ مِنۡ كُلِّ مَثَلٍ‌ ؕ وَكَانَ الۡاِنۡسَانُ اَكۡثَرَ شَىۡءٍ جَدَلًا‏ ﴿54﴾
And We have certainly diversified in this Qur'an for the people from every [kind of] example; but man has ever been, most of anything, [prone to] dispute.
ہم نے اس قرآن میں ہر ہر طریقے سے تمام کی تمام مثالیں لوگوں کے لئے بیان کر دی ہیں لیکن انسان سب سے زیادہ جھگڑالو ہے ۔

More translations & tafseer

و لقد صرفنا في هذا القران للناس من كل مثل و كان الانسان اكثر شيء جدلا
And We have certainly diversified in this Qur'an for the people from every [kind of] example; but man has ever been, most of anything, [prone to] dispute.
Hum ney iss quran mein her her tareeqay say tamam ki tamam misalen logon kay liye biyan ker di hain lekin insan sab say ziyada jhagraloo hai.
اور ہم نے لوگوں کے فائدے کے لیے اس قرآن میں طرح طرح سے ہر قسم کے مضامین بیان کیے ہیں ، اور انسان ہے کہ جھگڑا کرنے میں ہر چیز سے بڑھ گیا ہے ۔
اور بیشک ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثل طرح طرح بیان فرمائی ( ف۱۱۷ ) اور آدمی ہر چیز سے بڑھ کر جھگڑالو ہے ( ف۱۱۸ )
ہم نے اس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا مگر انسان بڑا ہی جھگڑالو واقع ہوا ہے ۔
اور بیشک ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لئے ہر طرح کی مثال کو ( انداز بدل بدل کر ) بار بار بیان کیا ہے ، اور انسان جھگڑنے میں ہر چیز سے بڑھ کر ہے
ہر بات صاف صاف کہہ دی گئی ۔ انسانوں کے لئے ہم نے اس اپنی کتاب میں ہر بات کا بیان خوب کھول کھول کر بیان کر دیا ہے تاکہ لوگ راہ حق سے نہ بہکیں ہدایت کی راہ سے نہ بھٹکیں لیکن باوجود اس بیان ، اس فرقان کے پھر بھی بجز راہ یافتہ لوگوں کے اور تمام کے تمام راہ نجات سے ہٹے ہوئے ہیں ۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ان کے مکان میں آئے اور فرمایا تم سوئے ہوئے ہو نماز میں نہیں ہو ؟ اس پر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ ہیں وہ جب ہمیں اٹھانا چاہتا ہے اٹھا بٹھاتا ہے ۔ آپ یہ سن کر بغیر کچھ فرمائے لوٹ گئے لیکن اپنی زانو پر ہاتھ مارتے ہوئے یہ فرماتے ہوئے جا رہے تھے کہ انسان تمام چیزوں سے زیادہ جھگڑالو ہے ۔