Surah

Information

Surah ID #18
Total Verses 110 Ayaat
Rukus 12
Sajdah 0
Actual Order #69
Classification Makkan
Revelation Location & Period Late Makkah phase (620 - 622 AD). Except 28, 83-101, from Madina
Surah 18: Al-Kahf Ayat #37
قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَهُوَ يُحَاوِرُهٗۤ اَكَفَرۡتَ بِالَّذِىۡ خَلَقَكَ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّـطۡفَةٍ ثُمَّ سَوّٰٮكَ رَجُلًاؕ‏ ﴿37﴾
His companion said to him while he was conversing with him, "Have you disbelieved in He who created you from dust and then from a sperm-drop and then proportioned you [as] a man?
اس کے ساتھی نے اس سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ کیا تو اس ( معبود ) سے کفر کرتا ہے جس نے تجھے مٹی سے پیدا کیا ۔ پھر نطفے سے پھر تجھے پورا آدمی بنا دیا ۔

More translations & tafseer

قال له صاحبه و هو يحاوره اكفرت بالذي خلقك من تراب ثم من نطفة ثم سوىك رجلا
His companion said to him while he was conversing with him, "Have you disbelieved in He who created you from dust and then from a sperm-drop and then proportioned you [as] a man?
Uss kay sathi ney uss say baten kertay huye kaha kay kiya to uss ( mabood ) say kufur kerta hai jiss ney tujhay mitti say peda kiya. Phir nutfay say phir tujhay poora aadmi bana diya.
اس کے ساتھی نے اس سے باتیں کرتے ہوئے کہا : کیا تم اس ذات کے ساتھ کفر کا معاملہ کر رہے ہو جس نے تمہیں مٹی سے ، اور پھر نطفے سے پیدا کیا ، پھر تمہیں ایک بھلا چنگا انسان بنا دیا؟
اس کے ساتھی ( ف۸۰ ) نے اس سے الٹ پھیر کرتے ہوئے جواب دیا کیا تو اس کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے تجھے مٹی سے بنایا پھر نطفہ سے پھر تجھے ٹھیک مرد کیا ( ف۸۱ )
اس کے ہمسائے نے گفتگو کرتے ہوئے اس سے کہا کیا تو کفر کرتا ہے اس ذات سے جس نے تجھے مٹی سے اور پھر نطفے سے پیدا کیا اور تجھے ایک پورا آدمی بنا کھڑا کیا ؟ 39
اس کے ساتھی نے اس سے کہا اور وہ اس سے تبادلہء خیال کر رہا تھا: کیا تو نے اس ( رب ) کا انکار کیا ہے جس نے تجھے ( اوّلاً ) مٹی سے پیدا کیا پھر ایک تولیدی قطرہ سے پھر تجھے ( جسمانی طور پر ) پورا مرد بنا دیا؟
سورة الْكَهْف حاشیہ نمبر :39 اگر چہ اس شخص نے خدا کی ہستی سے انکار نہیں کیا تھا ، بلکہ وَلَئِنْ رُّدِدْتُّ اِلٰی رِبِّیْ کے الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ خدا کے وجود کا قائل تھا ، لیکن اس کے باوجود اس کے ہمسائے نے اسے کفر باللہ کا مجرم قرار دیا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کفر باللہ محض ہستی باری کے انکار ہی کا نام نہیں ہے بلکہ تکبُّر اور فخر و غرور اور انکار آخرت بھی اللہ سے کفر ہی ہے ۔ جس نے یہ سمجھا کہ بس میں ہی میں ہوں ، میری دولت اور شان و شوکت کسی کا عطیہ نہیں بلکہ میری قوت و قابلیت کا نتیجہ ہے ، اور میری دولت لازوال ہے ، کوئی اس کو مجھ سے چھیننے والا نہیں ، اور کسی کے سامنے مجھے حساب دینا نہیں ، وہ اگر خدا کو مانتا بھی ہے تو محض ایک وجود کی حیثیت سے مانتا ہے ، اپنے مالک اور آقا اور فرماں روا کی حیثیت سے نہیں مانتا ۔ حالانکہ ایمان باللہ اسی حیثیت سے خدا کو ماننا ہے نہ کہ محض ایک موجود ہستی کی حیثیت سے ۔
احسان فراموشی مترادف کفر ہے اس کا کافر مالدار کو جو جواب اس مومن مفلس نے دیا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح اس نے وعظ و پند کی ایمان و یقین کی ہدایت کی اور گمراہی اور غرور سے ہٹانا چاہا فرمایا کہ تو اللہ کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے انسانی پیدائشی مٹی سے شروع کی پھر اس کی نسل ملے جلے پانی سے جاری رکھی جیسے آیت ( كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ۚ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ 28؀ ) 2- البقرة:28 ) میں ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو ؟ تم تو مردہ تھے اس نے تمہیں زندہ کیا ۔ تم اس کی ذات کا ، اس کی نعمتوں کا انکار کیسے کر سکتے ہو ؟ اسکی نعمتوں کے ، اس کی قدرتوں کے بیشمار نمونے خود تم میں اور تم پر موجود ہیں ۔ کون نادان ایسا ہے جو نہ جانتا ہو کہ وہ پہلے کچھ نہ تھا اللہ نے اسے موجود کر دیا ۔ وہ خود بخود اپنے ہونے پر قادر نہ تھا اللہ نے اس کا وجود پیدا کیا ۔ پھر وہ انکار کے لائق کیسے ہو گیا ؟ اس کی توحید الوہیت سے کون انکار کر سکتا ہے ۔ میں تو تیرے مقابلے میں کھلے الفاظ میں کہہ رہا ہوں کہ میرا رب وہی اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے میں اپنے رب کے ساتھ مشرک بننا ناپسند کرتا ہوں ۔ پھر اپنے ساتھی کو نیک رغبت دلانے کے لئے کہتا ہے کہ اپنی لہلہاتی ہوئی کھیتی اور ہرے بھرے میوں سے لدے باغ کو دیکھ کر تو اللہ کا شکر کیوں نہیں کرتا ؟ کیوں ماشاء اللہ لاقوۃ الا باللہ نہیں کہتا ؟ اسی آیت کو سامنے رکھ کر بعض سلف کا مقولہ ہے کہ جسے اپنی اولاد یا مال یا حال پسند آئے اسے یہ کلمہ پڑھ لینا چاہئے ۔ ابو یعلی موصلی میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جس بندے پر اللہ اپنی کوئی نعمت انعام فرمائے اہل و عیال ہوں ، دولتمندی ہو ، پھر وہ اس کلمہ کو کہہ لے تو اس میں کوئی آنچ نہ آئے گی سوائے موت کے پھر آپ اس آیت کی تاویل کرتے ۔ حافظ ابو الفتح کہتے ہیں یہ حدیث صحیح نہیں ۔ مسند احمد میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں جنت کا ایک خزانہ بتا دوں ؟ وہ خزانہ لاحول قوۃ الا باللہ کہنا ہے ۔ اور روایت میں ہے کہ اللہ فرماتا ہے میرے بندے نے مان لیا اور اپنا معاملہ میرے اس بندے نے مان لیا اور اپنا معاملہ میرے سپرد کر دیا ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے پھر پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا صرف لاحول نہیں بلکہ وہ جو سورہ کہف میں ہے ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ ۔ پھر فرمایا کہ اس نیک شخص نے کہا کہ مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ مجھے آخرت کے دن اس سے بہتر نعمتیں عطا فرمائے اور تیرے اس باغ کو جسے تو ہمیشگی والا سمجھے بیٹھا ہے تباہ کر دے ۔ آسمان سے اس پر عذاب بھیج دے ۔ زور کی بارش آندھی کے ساتھ آئے ۔ تمام کھیت اور باغ اجڑ جائیں ۔ سوکھی صاف زمین رہ جائے گویا کہ کبھی یہاں کوئی چیز اگی ہی نہ تھی ۔ یا اس کی نہروں کا پانی دھنسا دے ۔ غور مصدر ہے معنی میں غائر کے بطور مبالغے کے لایا گیا ہے ۔