وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ اُمَمًا ۚ مِنۡهُمُ الصّٰلِحُوۡنَ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰ لِكَ وَبَلَوۡنٰهُمۡ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴿168﴾
اور ہم نے دنیا میں ان کی مختلف جماعتیں کردیں ۔ بعض ان میں نیک تھے اور بعض ان میں اور طرح کے تھے اور ہم ان کو خوش حالیوں اور بد حالیوں سے آزماتے رہے کہ شاید باز آجائیں ۔
و قطعنهم في الارض امما منهم الصلحون و منهم دون ذلك و بلونهم بالحسنت و السيات لعلهم يرجعون
And We divided them throughout the earth into nations. Of them some were righteous, and of them some were otherwise. And We tested them with good [times] and bad that perhaps they would return [to obedience].
Aur hum ney duniya mein inn ki mukhtalif jamaten ker den. Baaz inn mein nek thay aur baaz inn mein aur tarah thay aur hum inn ko khushaliyon aur bad haliyon say aazmatay rahey kay shayad baaz aajayen.
اور ہم نے دنیا میں ان کو مختلف جماعتوں میں بانٹ دیا ۔ چنانچہ ان میں نیک لوگ بھی تھے اور کچھ دوسری طرح کے لوگ بھی ۔ اور ہم نے انہیں اچھے اور برے حالات سے آزمایا ، تاکہ وہ ( راہ راست کی طرف ) لوٹ آئیں ۔
اور انہیں ہم نے زمین میں متفرق کردیا گروہ گروہ ، ان میں کچھ نیک ہیں ( ف۳۲۲ ) اور کچھ اور طرح کے ( ف۳۲۳ ) اور ہم نے انہیں بھلائیوں اور برائیوں سے آزمایا کہ کہیں وہ رجوع لائیں ( ف۳۲٤ )
ہم نے ان کو زمین میں ٹکڑے ٹکڑے کر کے بہت سی قوموں میں تقسیم کر دیا ۔ کچھ لوگ ان میں نیک تھے اور کچھ اس سے مختلف ۔ اور ہم ان کو اچھے اور برے حالات سے آزمائش میں مبتلا کرتے رہے کہ شاید یہ پلٹ آئیں ۔
اور ہم نے انہیں زمین میں گروہ در گروہ تقسیم ( اور منتشر ) کر دیا ، ان میں سے بعض نیکوکار بھی ہیں اور ان ( ہی ) میں سے بعض اس کے سوا ( بدکار ) بھی اور ہم نے ان کی آزمائش انعامات اور مشکلات ( دونوں طریقوں ) سے کی تاکہ وہ ( اللہ کی طرف ) رجوع کریں
رشوت خوری کا انجام ذلت و رسوائی ہے
بنی اسرائیل مختلف فرقے اور گروہ کر کے زمین میں پھیلا دیئے گئے ۔ جیسے فرمان ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل سے کہا تم زمین میں رہو سہو ، جب آخرت کا وعدہ آئے گا ہم تمہیں جمع کر کے لائیں گے ان میں کچھ تو نیک لوگ تھے کجھ بد تھے ، جنات میں بھی یہی حال ہے جیسے سورہ جن میں ان کا قول ہے کہ ہم میں کچھ تو نیک ہیں اور کچھ اور طرح کے ہیں ہمارے بھی مختلف فرقے ہوتے آئے ہیں پھر فرمان ہے کہ میں نے انہیں سختی نرمی سے ، لالچ اور خوف سے ، عافیت اور بلا سے غرض ہر طرح پر کھ لیا تاکہ وہ اپنے کرتوت سے ہٹ جائیں جب یہ زمانہ بھی گذرا جس میں نیک بد ہر طرح کے لوگ تھے ان کے بعد تو ایسے ناخلف اور نالائق آئے جن میں کوئی بھلائی اور خیریت تھی ہی نہیں ۔ یہ اب تورات کی تلاوت والے رہ گئے ممکن ہے اس سے مراد صرف نصرانی ہوں اور ممکن ہے کہ یہ خبر عام نصرانی غیر نصرانی سب پر مشتمل ہو وہ حق بات کو بدلنے اور مٹانے کی فکر میں لگ گئے جیب بھر دو جو چاہو کہلوا لو ۔ پس ہوس یہ ہے کہ ہے کیا ؟ توبہ کرلیں گے معاف ہو جائے گا پھر موقع آیا پھر دنیا لے کر اللہ کی باتیں بدل دیں ۔ گناہ کیا توبہ کی پھر موقعہ ملتے ہی لپک کر گناہ کر لیا ۔ مقصود ان کا دنیا طلبی ہے حلال سے ملے چاہے حرام سے ملے پھر بھی مغفرت کی تمنا ہے ۔ یہ ہیں جو وارث رسول کہلواتے ہیں اور جن سے اللہ نے عہد لیا ہے جیسے دوسری آیت میں ہے کہ ان کے بعد ایسے ناخلف آئے جنہوں نے نماز تک ضائع کر دی ۔ بنی اسرائیل کا آوے کا آوا بگڑ گیا آج ایک کو قاضی بناتے ہیں وہ رشوتیں کھانے اور احکام بدلنے لگتا ہے وہ اسے ہٹا کر دوسرے کو قائم کرتے ہیں اس کا بھی یہی حال ہوتا ہے پوچھتے ہیں بھئی ایسا کیوں کرتے ہو؟ جواب ملتا ہے اللہ غفور و رحیم ہے پھر وہ ان لوگوں میں سے کسی کو اس عہدے پر لاتے ہیں جو اگلے قاضیوں حاکموں اور ججوں کا شاکی تھا لیکن وہ بھی رشوتیں لینے لگتا ہے اور ناحق فیصلے کرنے لگتا ہے پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ایسا کیوں کرتے ہو؟ حالانکہ تم سے مضوبط عہد و پیمان ہم نے لے لیا ہے کہ تم حق کو ظاہر کیا کرو اسے نہ چھپاؤ لیکن ذلیل دنیا کے لالچ میں آ کر عذاب رب مول لے رہے ہو اسی وعدے کا بیان آیت ( وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَيِّنُنَّهٗ لِلنَّاسِ وَلَاتَكْتُمُوْنَهٗ ۡ فَنَبَذُوْهُ وَرَاۗءَ ظُهُوْرِھِمْ وَاشْتَرَوْا بِهٖ ثَمَـــنًا قَلِيْلًا ۭ فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُوْنَ ١٨٧ ) 3-آل عمران:187 ) میں ہوا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاری سے عہد لیا تھا کہ وہ کتاب اللہ لوگوں کے سامنے بیان کرتے رہیں گے اور اس کی کوئی بات نہ چھپائیں گے ۔ یہ بھی اس کے خلاف تھا کہ گناہ کرتے چلے جائیں توبہ نہ کریں اور بخشش کی امید رکھیں پھر اللہ تعالیٰ انہیں اپنے پاس کے اجرو ثواب کی لالچ دکھاتا ہے کہ اگر تقویٰ کیا حرام سے بچے خواہش نفسانی کے پیچھے نہ لگے رب کی اطاعت کی تو آخرت کا بھلا تمہیں لے گا جو اس فانی دنیا کے ٹھاٹھ سے بہت ہی بہتر ہے ۔ کیا تم میں اتنی بھی سمجھ نہیں کہ گراں بہا چیز کو چھوڑ کر ردی چیز کے پیچھے پڑے ہو؟ پھر جناب باری عزوجل ان مومنوں کی تعریف کرتا ہے جو کتاب اللہ پر قائم ہیں اور اس کتاب کی راہنمائی کے مطابق اس پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہیں ، کلام رب پر جم کر عمل کرتے ہیں ، احکام الٰہی کو دل سے مانتے ہیں اور بجا لاتے ہیں اس کے منع کردہ کاموں سے رک گئے ہیں ، نماز کو پابندی ، دلچسپی ، خشوع اور خضوع سے ادا کرتے ہیں حقیقتاً یہی لوگ اصلاح پر ہیں ناممکن ہے کہ ان نیک اور پاکباز لوگوں کا بدلہ اللہ ضائع کر دے ۔