Surah

Information

Surah ID #7
Total Verses 206 Ayaat
Rukus 24
Sajdah 1
Actual Order #39
Classification Makkan
Revelation Location & Period Middle Makkah phase (618 - 620 AD). Except 163-170, from Madina
Surah 7: al-A`raaf Ayat #80
وَلُوۡطًا اِذۡ قَالَ لِقَوۡمِهٖۤ اَتَاۡتُوۡنَ الۡفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمۡ بِهَا مِنۡ اَحَدٍ مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ‏ ﴿80﴾
And [We had sent] Lot when he said to his people, "Do you commit such immorality as no one has preceded you with from among the worlds?
اور ہم نے لوط ( علیہ السلام ) کو بھیجا جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم ایسا فحش کام کرتے ہو جس کو تم سے پہلے کسی نے دنیا جہان والوں میں سے نہیں کیا ۔

More translations & tafseer

و لوطا اذ قال لقومه اتاتون الفاحشة ما سبقكم بها من احد من العلمين
And [We had sent] Lot when he said to his people, "Do you commit such immorality as no one has preceded you with from among the worlds?
Aur hum ney loot ( alh-e-salam ) ko bheja jabkay unhon ney apni qom say farmaya tum aisa fahash kaam kertay ho jiss ko tum say pehlay kissi ney duniya jahaan walon mein say nahi kiya.
اور ہم نے لوط کو بھیجا ( ٤٠ ) جب اس نے اپنی قوم سے کہا : کیا تم اس بے حیائی کا ارتکاب کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا جہان کے کسی شخص نے نہیں کی ؟
اور لوط کو بھیجا ( ف۱٤۹ ) جب اس نے اپنی قوم سے کہا کیا وہ بےحیائی کرتے ہو جو تم سے پہلے جہان میں کسی نے نہ کی ،
اور لوط کو ہم نے پیغمبر بنا کر بھیجا ، پھر یاد کرو جب اس نے اپنی قوم سے کہا 63 کیا تم ایسے بے حیا ہوگئے ہو کہ وہ فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا ؟
اور لوط ( علیہ السلام ) کو ( بھی ہم نے اسی طرح بھیجا ) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا: کیا تم ( ایسی ) بے حیائی کا ارتکاب کرتے ہو جسے تم سے پہلے اہلِ جہاں میں سے کسی نے نہیں کیا تھا
سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :63 یہ قوم اس علاقہ میں رہتی تھی جسے آج کل شرق اردن ( Trans Jordan ) کہا جاتا ہے اور عراق و فلسطین کے درمیان واقع ہے ۔ بائیبل میں اس قوم کے صدر مقام کا نام”سدوم“ بتایا گیا ہے جو یا تو بحیرہ مردار کے قریب کسی جگہ واقع تھا یا اب بحیرہ مردار میں غرق ہو چکا ہے ۔ تَلمود میں لکھا ہے کہ سدوم کے علاوہ ان کے چار بڑے بڑے شہر اور بھی تھے اور ان شہروں کے درمیان کا علاقہ ایسا گلزار بنا ہوا تھا کہ میلوں تک بس ایک باغ ہی باغ تھا جس کے جمال کو دیکھ کر انسان پر مستی طاری ہو نے لگتی تھی ۔ مگر آج اس قوم کا نام و نشان دنیا سے بالکل ناپید ہوچکا ہے اور یہ بھی متعین نہیں ہے کہ اس کی بستیاں ٹھیک کس مقام پر واقع تھیں ۔ اب صرف بحیرہ مردار ہی اس کی ایک یادگار باقی رہ گیا ہے جسے آج تک بحِر لوط کہا جاتا ہے ۔ حضرت لوط علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے ۔ اپنے چچا کے ساتھ عراق سے نکلے اور کچھ مدت تک شام و فلسطین و مصر میں گشت لگا کر دعوت تبلیغ کا تجربہ حاصل کرتے رہے ۔ پھر مستقل پیغمبری کے منصب پر سرفراز ہو کر اس بگڑی ہوئی قوم کی اصلاح پر مامور ہوئے ۔ اہل سدوم کو ان کی قوم اس لحاظ سے کہا گیا ہے کہ شاید ان کا رشتہ داری کا تعلق اس قوم سے ہوگا ۔ یہودیوں کی تحریف کردہ بائیبل میں حضرت لوط کی سیرت پر جہاں اور بہت سے سیاہ دھبے لگائے گئے ہیں وہاں ایک دھبہ یہ بھی ہے کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے لڑ کر سدوم کے علاقے میں چلے گئے تھے ( پیدائش ، باب ١۳ ۔ آیت١ ۔ ١۲ ) ۔ مگر قرآن اس غلط بیانی کی تردید کرتا ہے ۔ اس کا بیان یہ ہے کہ اللہ نے انہیں رسول بنا کر اس قوم کی طرف بھیجا تھا ۔
لوط علیہ السلام کی بد نصیب قوم فرمان ہے کہ حضرت لوط علیہ السلام کو بھی ہم نے ان کی قوم کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجا تو ان کے واقعہ کو بھی یاد کر ، حضرت لوط علیہ السلام ہاران بن آزر کے بیٹے تھے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے آپ ہی کے ہاتھ پر ایمان قبول کیا تھا اور آپ ہی کے ساتھ شام کی طرف ہجرت کی تھی ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنا نبی بنا کر سدوم نامی بستی کی طرف بھیجا آپ نے انہیں اور آس پاس کے لوگوں کو اللہ کی توحید اور اپنی اطاعت کی طرف بلایا نیکیوں کے کرنے برائیوں کو چھوڑنے کا حکم دیا ۔ جن میں ایک برائی اغلام بازی تھی جو ان سے پہلے دنیا سے مفقود تھی ۔ اس بدکاری کے موجد یہی ملعون لوگ تھے ۔ عمرو بن دینار یہی فرماتے ہیں ۔ جامع دمشق کے بانی خلیفہ ولید بن عبدالملک کہتے ہیں اگر یہ خبر قرآن میں نہ ہوتی تو میں تو اس بات کو کبھی نہ مانتا کہ مرد مرد سے حاجت روائی کرلے اسی لئے حضرت لوط علیہ السلام نے ان حرام کاروں سے فرمایا کہ تم سے پہلے تو یہ ناپاک اور خبیث فعل کسی نے نہیں کیا ۔ عورتوں کو جو اس کام کیلئے تھیں چھوڑ کر تم مردوں پر ریجھ رہے ہو؟ اس سے بڑھ کر اسراف اور جہالت اور کیا ہو گی ؟ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ آپ نے فرمایا یہ ہیں میری بچیاں یعنی تمہاری قوم کی عورتیں ۔ لیکن انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں ان کی چاہت نہیں ۔ ہم تو تمہارے ان مہمان لڑکوں کے خواہاں ہیں مفسرین فرماتے ہیں جس طرح مرد مردوں میں مشغول تھے عورتیں عورتوں میں پھنسی ہوئی تھیں ۔