Surah

Information

Surah ID #7
Total Verses 206 Ayaat
Rukus 24
Sajdah 1
Actual Order #39
Classification Makkan
Revelation Location & Period Middle Makkah phase (618 - 620 AD). Except 163-170, from Madina
Surah 7: al-A`raaf Ayat #65
وَاِلٰى عَادٍ اَخَاهُمۡ هُوۡدًا‌ ؕ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَـكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ؕ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ‏ ﴿65﴾
And to the 'Aad [We sent] their brother Hud. He said, "O my people, worship Allah ; you have no deity other than Him. Then will you not fear Him?"
اور ہم نے قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود ( علیہ السلام ) کو بھیجا ۔ انہوں نے فرمایا اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں سو کیا تم نہیں ڈرتے ۔

More translations & tafseer

و الى عاد اخاهم هودا قال يقوم اعبدوا الله ما لكم من اله غيره افلا تتقون
And to the 'Aad [We sent] their brother Hud. He said, "O my people, worship Allah ; you have no deity other than Him. Then will you not fear Him?"
Aur hum ney qom-e-aad ki taraf unn kay bhai hood ( alh-e-salam ) ko bheja. Unhon ney farmaya aey meri qom! Tum Allah ki ibadat kero uss kay siwa tumhara koi mabood nahi so kiya tum nahi dartay.
اور قوم عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہود کو بھیجا ۔ ( ٣٧ ) انہوں نے کہا : اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو ۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ۔ کیا پھر بھی تم اللہ سے نہیں ڈرو گے ؟
اور عاد کی طرف ( ف۱۱۷ ) ان کی برادری سے ہود کو بھیجا ( ف۱۱۸ ) کہا اے میری قوم اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ، تو کیا تمہیں ڈر نہیں ( ف۱۱۹ )
اور عاد 51 کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہود کو بھیجا ۔ اس نے کہا اے برادرانِ قوم ، اللہ کی بندگی کرو ، اس کے سِوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے ۔ پھر کیا تم غلط روی سے پرہیز نہ کرو گے؟
اور ہم نے ( قومِ ) عاد کی طرف ان کے ( قومی ) بھائی ہُود ( علیہ السلام ) کو ( بھیجا ) ، انہوں نے کہا: اے میری قوم! تم اﷲ کی عبادت کیا کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں ، کیا تم پرہیزگار نہیں بنتے
سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :51 یہ عرب کی قدیم ترین قوم تھی جس کے افسانے اہل عرب میں زبان زدعام تھے ۔ بچہ بچہ ان کے نام سے واقف تھا ۔ ان کی شوکت و حشمت ضرب المثل تھی ۔ پھر دنیا سے ان کا نام و نشان تک مٹ جانا بھی ضرب المثل ہو کر رہ گیا تھا ۔ اسی شہرت کی وجہ سے عربی زبان میں ہر قدیم چیز کے لیے عادی کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ آثار قدیمہ کو عادیّات کہتے ہیں ۔ جس زمین کے مالک باقی نہ رہے ہوں اور جو آباد کار نہ ہونے کی وجہ سے اُفتادہ پڑی ہوئی ہو اسے عادیُّ الارض کہا جاتا ہے ۔ قدیم عربی شاعری میں ہم کو بڑی کثرت سے اس قوم کا ذکر ملتا ہے ۔ عرب کے ماہرینِ انساب بھی اپنے ملک کی معدوم شدہ قوموں میں سب سے پہلے اسی قوم کا نام لیتے ہیں ۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بنی ذُہل بن شیَبان کے ایک صاحب آئے جو عاد کے علاقہ کے رہنے والے تھے اور انہوں نے وہ قصے حضور کو سنائے جو اس قوم کے متعلق قدیم زمانوں سے ان کے علاقہ کے لوگوں میں نقل ہوتے چلے آرہے تھے ۔ قرآن کی رو سے اس قوم کا اصل مسکن اَحقاف کا علاقہ تھا جو حجاز ، یمن اور یمامہ کے درمیان الرَّبع الخالی کے جنوب مغرب میں واقع ہے ۔ یہیں سے پھیل کر ان لوگوں نے یمن کے مغربی سواحل اور عُمان و حضرموت سے عراق تک اپنی طاقت کا سکّہ رواں کردیا تھا ۔ تاریخی حیثیت سے اس قوم کے آثار دنیا سے تقریباً ناپید ہو چکے ہیں ، لیکن جنوبی عرب میں کہیں کہیں کچھ پرنے کھنڈر موجود ہیں جنہیں عاد کی طرف نسبت دی جاتی ہے حضر موت میں ایک مقام پر حضرت ہود علیہ السلام کی قبر بھی مشہور ہے ۔ ١۸۳۷ میں ایک انگریز بحری افسر ( James R. Wellested ) کو حِصنِ غُراب میں ایک پُرانا کتبہ ملا تھا جس میں حضرت ہود علیہ السلام کا ذکر موجود ہے اور عبارت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان لوگوں کی تحریر ہے جو شریعت ہود کے پیرو تھے ۔ ( مزید تشریح کےلیے ملاحظہ ہو الاحقاف حاشیہ ۲۵ )
ہود علیہ السلام اور ان کا رویہ! فرماتا ہے کہ جیسے قوم نوح کی طرف حضرت نوح کو ہم نے بھیجا تھا قوم عاد کی طرف حضرت ہود علیہ السلام کو ہم نے نبی بنا کر بھیجا یہ لوگ عاد بن ارم بن عوص بن سام بن نوح کی اولاد تھے ۔ یہ عاد اولیٰ ہیں ۔ یہ جنگل میں ستونوں میں رہتے تھے ۔ فرمان ہے آیت ( الم تر کف فعل ربک بعاد ارم ذات العماد التی لم یخلق مثلھا فی البلاد ) یعنی کیا تو نے نہیں دیکھا کہ عاد ارم کے ساتھ تیرے رب نے کیا کیا ؟ جو بلند قامت تھے دوسرے شہروں میں جن کی مانند لوگ پیدا ہی نہیں کئے گئے ۔ یہ لوگ بڑے قوی طاقتور اور لانبے چوڑے قد کے تھے جیسے فرمان ہے کہ عادیوں نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور نعرہ لگایا کہ ہم سے زیادہ قوی کون ہے؟ کیا انہیں اتنی بھی تمیز نہیں کہ ان کا پیدا کرنے والا یقینا ان سے زیادہ طاقت والا ہے ۔ وہ ہماری آیتوں سے انکار کر بیٹھے ان کے شہر یمن میں احقاف تھے ، یہ ریتلے پہاڑ تھے ۔ حضرت علی نے حضرت موت کے ایک شخص سے کہا کہ تو نے ایک سرخ ٹیلہ دیکھا ہو گا جس میں سرخ رنگ کی راکھ جیسی مٹی ہے اس کے آس پاس پیلو اور بیری کے درخت بکثرت ہیں وہ ٹیلہ فلاں جگہ حضر موت میں ہے اس نے کہا امیر المومنین آپ تو اس طرح کے نشان بتا رہے ہیں گویا آپ نے بچشم خود دیکھا ہے آپ نے فرمایا نہیں دیکھا تو نہیں لیکن ہاں مجھ تک حدیث پہنچی ہے کہ وہیں حضرت ہود علیہ السلام کی قبر ہے ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی بستیاں یمن میں تھیں اسی لئے ان کے پیغمبر وہیں مدفون ہیں آپ ان سب میں شریف قبیلے کے تھے اس لئے کہ انبیاء ہمیشہ حسب نسب کے اعتبار سے عالی خاندان میں ہی ہوتے رہے ہیں لیکن آپ کی قوم جس طرح جسمانی طور سے سخت اور زوردار تھی اسی طرح دلوں کے اعتبار سے بھی بہت سخت تھی جب اپنے نبی کی زبانی اللہ کی عبادت اور تقویٰ کی نصیحت سنی تو لوگوں کو بھاری اکثریت اور ان کے سردار اور بڑے بول اٹھے کہ تو تو پاگل ہو گیا ہے ہمیں اپنے بتوں کی ان خوبصورت تصویروں کی عبادت سے ہٹا کر اللہ واحد کی عبادت کی طرف بلا رہا ہے ۔ یہی تعجب قریش کو ہوا تھا ۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس نے سارے معبودوں کو عبادت سے ہٹا کر ایک کی عبادت کی طرف بلا رہا ہے ۔ یہی تعجب قریش کو ہوا تھا ۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس نے سارے معبودوں کو عبادت سے ہٹا کر ایک کی عبادت کی دعوت کیوں دی ؟ حضرت ہود نے انہیں جواب دیا کہ مجھ میں تو بیوقوفی کی بفضلہ کوئی بات نہیں ۔ میں تو تمہیں کلام اللہ پہنچا رہا ہوں تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں اور امانت داری سے حق رسالت ادا کر رہا ہوں ۔ یہی وہ صفتیں ہیں جو تمام رسولوں میں یکساں ہوتی ہیں یعنی پیغام حق پہنچانا ، لوگوں کی بھلائی چاہنا اور امانتداری کا نمونہ بننا ۔ تم میری رسالت پر تعجب نہ کرو بلکہ اللہ کا شکر بجا لاؤ کہ اس نے تم میں سے ایک فرد کو اپنا پیغمبر بنایا کہ وہ تمہیں عذاب الٰہی سے ڈراوے ۔ تمہیں رب کے اس احسان کو بھی فراموش نہ کرنا چاہئے کہ اس نے تمہیں ہلاک ہونے والوں کے بقایا میں سے بنایا ۔ تمہیں باقی رکھا اتنا ہی نہیں بلکہ تمہیں قوی ہیکل ، مضبوط اور طاقتور کر دیا ۔ یہی نعمت حضرت طالوت پر تھی کہ انہیں جسمانی اور علمی کشادگی دی گئی تھی ۔ تم اللہ کی نعمتوں کو یاد رکھو تاکہ نجات حاصل کر سکو ۔