Surah

Information

Surah ID #7
Total Verses 206 Ayaat
Rukus 24
Sajdah 1
Actual Order #39
Classification Makkan
Revelation Location & Period Middle Makkah phase (618 - 620 AD). Except 163-170, from Madina
Surah 7: al-A`raaf Ayat #52
وَلَقَدۡ جِئۡنٰهُمۡ بِكِتٰبٍ فَصَّلۡنٰهُ عَلٰى عِلۡمٍ هُدًى وَّرَحۡمَةً لِّـقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿52﴾
And We had certainly brought them a Book which We detailed by knowledge - as guidance and mercy to a people who believe.
اور ہم نے ان لوگوں کے پاس ایک ایسی کتاب پہنچا دی ہے جس کو ہم نے اپنے علم کامل سے بہت واضح کر کے بیان کر دیا ہے وہ ذریعہ ہدایت اور رحمت ان لوگوں کے لئے ہے جو ایمان لائے ہیں ۔

More translations & tafseer

و لقد جنهم بكتب فصلنه على علم هدى و رحمة لقوم يؤمنون
And We had certainly brought them a Book which We detailed by knowledge - as guidance and mercy to a people who believe.
Aur hum ney inn logon kay pass aik aisi kitab phoncha di hai jiss ko hum ney apney ilm-e-kaamil say boht wazeh ker kay biyan ker diya hai woh zariya-e-hidayat aur rehmat unn logon kay liye hai jo eman laye hain.
اور حقیقت یہ ہے کہ ہم ان کے پاس ایک ایسی کتاب لے آئے ہیں جس میں ہم نے اپنے علم کی بنیاد پر ہر چیز کی تفصیل بتا دی ہے اور جو لوگ ایمان لائیں ان کے لیے وہ ہدایت اور رحمت ہے ۔
اور بیشک ہم ان کے پاس ایک کتاب لائے ( ف۹۲ ) جسے ہم نے ایک بڑے علم سے مفصل کیا ہدایت و رحمت ایمان والوں کے لیے ،
ہم ان لوگوں کے پاس ایک ایسی کتاب لے آئے ہیں جس کو ہم نے علم کی بنا پر مفصّل بنایا ہے 36 اور جو ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے ۔ 37
اور بیشک ہم ان کے پاس ایسی کتاب ( قرآن ) لائے جسے ہم نے ( اپنے ) علم ( کی بنا ) پر مفصّل ( یعنی واضح ) کیا ، وہ ایمان والوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے
سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :36 یعنی اس میں پوری تفصیل کے ساتھ بتا دیا گیا ہے کہ حقیقت کیا ہے اور انسان کے لیے دنیا کی زندگی میں کونسا رویّہ درست ہے اور صحیح طرزِ زندگی کے بنیادی اصول کیا ہیں ۔ پھر یہ تفصیلات بھی قیاس یا گمان یا وہم کی بنیاد پر نہیں بلکہ خالص علم کی بنیاد پر ہیں ۔ سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :37 مطلب یہ ہے کہ اوّل تو اس کتاب کے مضامین اور اس کی تعلیمات ہی بجائے خود اس قدر صاف ہیں کہ آدمی اگر ان پر غور کرے تو اس کے سامنے راہِ حق واضح ہو سکتی ہے ۔ پھر اس پر مزید یہ ہے کہ جو لوگ اس کتاب کو مانتے ہیں ان کی زندگی میں عملاً بھی اس حقیقت کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ انسان کی کیسی صحیح رہنمائی کرتی ہے اور کتنی بڑی رحمت ہے کہ اس کا اثر قبول کرتے ہی انسان کی ذہنیت ، اس کے اخلاق اور اس کی سیرت میں بہترین انقلاب شروع ہو جاتا ہے ۔ یہ اشارہ ہے ان حیرت انگیز اثرات کی طرف جو اس کتاب پر ایمان لانے سےصحابہ کرام کی زندگیوں میں ظاہر ہو رہے تھے ۔
آخری حقیقت جنت اور دوزخ کا مشاہدہ اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے کل عذر ختم کر دیئے تھے اپنے رسولوں کی معرفت اپنی کتاب بھیجی جو مفصل اور واضح تھی ۔ جیسے فرمان ہے آیت ( الۗرٰ ۣ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ Ǻ۝ۙ ) 11-ھود:1 ) ، اس قرآن کی آیتیں مضبوط اور تفصیل وار ہیں ۔ اس کی جو تفصیل ہے وہ بھی علم پر ہے جیسے فرمان ہے آیت ( انزلہ بعلمہ ) اسے اپنے علم کے ساتھ اتارا ہے ۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں یہ آیت اسی آیت پر جاتی ہے جس میں فرمان ہے آیت ( كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَيْكَ فَلَا يَكُنْ فِيْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنْذِرَ بِهٖ وَذِكْرٰي لِلْمُؤْمِنِيْنَ Ą۝ ) 7- الاعراف:2 ) ، یہ کتاب تیری طرف نازل فرمائی گئی ہے پس اس سے تیرے سینے میں کوئی حرج نہ ہونا چاہئے ۔ یہاں فرمایا آیت ( ولقد جئناہم بکتاب ) الخ ، لیکن یہ محل نظر ہے اس لئے کہ فاصلہ بہت ہے اور یہ قول بےدلیل ہے درحقیقت جب ان کے اس خسارے کا ذکر ہوا جو انہیں آخرت میں ہو گا تو بیان فرمایا کہ دنیا میں ہی ہم نے تو اپنا پیغام پہنچا دیا تھا رسول بھی کتاب بھی ۔ جیسے ارشاد ہے کہ جب تک ہم رسول نہ بھیج دیں عذاب نہیں کرتے اسی لئے اس کے بعد ہی فرمایا ۔ انہیں تو اب جنت دوزخ کے اپنے سامنے آنے کا انتظار ہے ۔ یا یہ مطلب کہ اس کی حقیقت یکے بعد دیگرے روشن ہوتی رہے گی یہاں تک کہ آخری حقیقت یعنی جنت دوزخ ہی سامنے آ جائیں گی اور ہر ایک اپنے لائق مقام میں پہنچ جائے گا قیامت والے دن یہ واقعات رونما ہو جائیں گے اب جو سن رہے ہیں اس وقت دیکھ لیں گے اس وقت اسے فراموش کر کے بیٹھ رہنے والے عمل سے کورے لوگ مان لیں گے کہ بیشک اللہ کے انبیاء سچے تھے رب کی کتابیں برحق تھیں کاش اب کوئی ہمارا سفارشی کھڑا ہو اور ہمیں اس ہلاکت سے نجات دلائے یا ایسا ہو کہ ہم پھر سے دنیا کی طرف لوٹا دیئے جائیں تو جو کام کئے تھے اب ان کے خلاف کریں ۔ جیسے فرمان ہے آیت ( وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ 27؀ ) 6- الانعام:27 ) کاش کہ ہم پھر دنیا میں لوٹائے جاتے ، اپنے رب کی آیتوں کو نہ جھٹلاتے اور مومن بن جاتے ۔ اس سے پہلے جو وہ چھپا رہے تھے اب ظاہر ہو گیا حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ دوبارہ دنیا میں بھیجے بھی جائیں تو جس چیز سے روکے جائیں گے وہی دوبارہ کریں گے اور جھوٹے ثابت ہوں ۔ انہوں نے آپ ہی اپنا برا کیا اللہ کے سوا اوروں سے امیدیں رکھتے رہے آج سب باطل ہو گئیں نہ کوئی ان کا سفارشی نہ حمایتی ۔